Home
انجمن فقه قضايي-اردو
حقوق نسواں اور بیچاری خواتین پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر حكيمي   
جمعہ, 18 نومبر 2011 16:08

انسانی فطرت ہے کہ اگر اسے کسی اعلی طاقت کا خوف نہ ہو تو وہ بہیمیت کی انتہا کو پہنچنے سے بھی دریغ نہیں کرتا، کمزوروں کو دبانا اور انہیں اپنی خدمت اور آسائش کے لئے استعمال کرنا انسانی تاریخ کا مکروہ ترین باب ہے۔ اور اس پورے باب میں چونکہ عورت سب سے کمزور اور قوت مدافعت سے عاری مخلوق تھی لہذا اس کی اس کمزوری سے بھر پور فائدہ اٹھایا گیا اور اسے جانوروں سے بھی بد تر سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ بازاروں کے میلوں میں ان کی خریدوفروخت کی جاتی تھی،راہبانہ مذاہب میں لڑکیوں کو باعث نحوست اور گناہ کا سرچشمہ تصور کیا جاتا تھا۔اور ہندوستان کے بعض علاقوں میں آج بھی ”ستی“ کی رسم ایک مذہبی روایت کے طور پر رائج ہے۔
اٹھارویں اور انیسویں صدی میں جہاں اور بہت سے میدانوں میں ترقی ہوئی وہیں انسانی حقوق کے حوالے سے بھی مختلف تحریکوں نے سر اٹھانا شروع کیا۔ اگرچہ بیسویں صدی تک کوئی واضح تصور پیش نہیں کیا جا سکا لیکن کسی حد تک پیش رفت ضرور ہوئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
خواتین کے حقوق موجودہ دنیا کا ایک پیچیدہ مسئلہ پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر حكيمي   
جمعہ, 18 نومبر 2011 16:06

حقوق نسواں  جو کہ آج کی دنیا کا ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے ، اس کے متعلق بہت مقالے لکھے  گۓ ، تقاریر کی گئی اور بہت سی کانفرنسیں منعقد ہوئیں ۔ جب ہم اس دنيا کے انساني نقشے اور مختلف انساني معاشروں پر نظر ڈالتے ہيں ، خواہ وہ ہمارے اپنے ملک کا اسلامي معاشرہ ہو يا ديگر اسلامي ممالک کا يا حتي غير اسلامي معاشرے بھي کہ جن ميں ترقی یافتہ  اور متمدن معاشرے بھي شامل ہيں، تو ہم ديکھتے ہيں کہ ان تمام معاشروں ميں بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حقوق نسواں کا مسئلہ ابھي تک حل نہيں ہوا ہے۔
يہ سب انساني مسائل کے بارے ميں ہماري کج فکري اور غلط سوچ کي نشاني ہے اور اس با ت کي عکاسي کرتے ہيں کہ ہم ان تمام مسائل ميں تنگ نظري کا شکار ہيں۔

ايسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے تمام بلندو بانگ دعووں،مخلص اور ہمدرد افراد کي تمام تر جدوجہد اور حقوق نسواں اور خواتين کے مسائل کے بارے ميں وسيع پيمانے پر ہونے والي ثقافتي سرگرميوں اور فعاليت کے باوجود اِن دو جنس (مرد و عورت) اور مسئلہ خواتين کہ اِسي کے ذيل ميں مردوں کے مسائل کو ايک اور طرح سے بيان کيا جاتا ہے، کے بارے ميں ايک سيدھے راستے اور صحيح روش کو ابھي تک ڈھونڈھنے سے قاصر ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
اسلامی نظام حقوق نسواں کے تحفظ کا ضامن پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر حكيمي   
جمعہ, 18 نومبر 2011 16:02

اسلام انسانیت کے لیے تکریم، وقار اور حقوق کے تحفظ کا پیغام لے کر آیا۔ اسلام سے قبل معاشرے کا ہر کمزور طبقہ طاقت ور کے زیرنگیں تھا۔ تاہم معاشرے میں خواتین کی حالت سب سے زیادہ ناگفتہ بہ تھی۔ تاریخِ انسانی میں عورت اور تکریم دو مختلف حقیقتیں رہی ہیں۔ قدیم یونی فکر سے حالیہ مغربی فکر تک یہ تسلسل قائم نظر آتا ہے۔ یونانی روایات کے مطابق پینڈورا (Pandora) ایک عورت تھی جس نے ممنوعہ صندوق کو کھول کر انسانیت کو طاعون اور غم کا شکار کر دیا۔ ابتدائی رومی قانون میں بھی عورت کر مرد سے کمتر قرار دیا گیا تھا۔ ابتدائی عیسائی روایت بھی اسی طرح کے افکار کی حامل تھی۔

سینٹ جیروم (St. Jerome) نے کہا:

" Woman is the gate of the devil, the path of wickedness, the sting of the serpent, in a word a perilous object."

مزید پڑھیے۔۔۔
 
اسلام اور نظریہ حقوق نسواں پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر حكيمي   
جمعہ, 18 نومبر 2011 16:00

مسلم خواتین کی طرف سے اسلامی تحریک نسواں یا اسلامک فیمینزم کے تصور کو زیر بحث بنایا جا رہا ہے۔

مسلمانوں کی الہامی کتاب قرآن میں بارہا عورت اور مرد کو برابری کے حقوق دئیے جانے کی بات کی گئی ہے۔ احادیث اور پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بھی ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں مرد کو عورت پر فوقیت نہیں دی گئی۔



اسلامی تعلیمات میں عورت کو برابری کے حقوق دئیے گئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ  چودہ سو سال بعد  بھی مسلمان  عورت زمانہ جاہلیت کی ان فرسودہ روایات سے لڑ رہی ہے۔ اسلام کے نام پر زن بیزاری کی بد ترین مثال افغانستان میں طالبان حکومت کے  دور عہد میں پوری دنیا نے دیکھی اور اسے ہی اسلام کا روپ سمجھا۔  اکیسیویں صدی کی مسلمان عورت ان  حقوق کو پانے کے لیے جدو جہد کر رہی ہے جن کا اس سے چودہ سو سال پہلے  وعدہ کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر بدران کے مطابق اسلام عورت کے برابری کے حقوق کا داعی ہے۔ اسلامی نظریہ حقوق نسواں روز اول سے ہی ایک عالمگیر نظریہ ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
اسلام میں عورت اور مرد کے مساوی حقوق پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر حكيمي   
جمعہ, 18 نومبر 2011 15:58

اسلام نے عورت کو مرد کے برابر حقوق چودہ سو سال قبل اس وقت دئیے تھے۔ جب عورت کے حقوق کا تصور ابھی دنیا کے کسی بھی معاشرہ میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ عورت اور مرد کی مساوات کا نظریہ دنیا میں سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا اور اس طرح عورت کو مرد کی غلامی سے نجات دلائی جس میں وہ صدیوں سے جکڑی ہوئی تھی اس مساوات کی بنیاد قرآن مجید کی اس تعلیم پر ہے جس میں فرمایا گیا کہ

” تم (مرد ) ان کے (عورت ) کے لئے لباس ہو اور وہ تمہارے لئے لباس ہیں۔“

اس طرح گویا مختصر ترین الفاظ اور نہایت بلیغ انداز میں عورت اور مرد کی رفاقت کو تمدن کی بنیاد قرار دیا گیا اور انہیں ایک دوسرے کے لئے ناگزیر بتاتے ہوئے عورت کو بھی تمدنی طور پر وہی مقام دیا گیا ہے جو مرد کو حاصل ہے اس کے بعد نبی کریم نے حجتہ الودع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا ۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
<< شروع < پچھلا 1 2 3 4 5 6 7 اگلا > آخر >>

صفحہ 1 کا 7

كليه حقوق اين سايت متعلق به انجمن علمی و پژوهشی فقه قضایی است و نقل مطالب بدون ذكر منبع غير مجاز مي باشد
مسؤولیت مقالات به عهده نویسنده بوده، درج مقاله به منزله تایید آن نیست
Template name : Alqaza / Template designed by www.muhammadi.org

SMZmuhammadi July 2010