Home
انجمن فقه قضايي-اردو
ہم جنس بازی کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟ پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
اتوار, 09 اکتوبر 2011 05:15

اگرچہ مغربی دنیا میں جہاں جنسی بے راہ روی بہت زیادہ رائج ہے ایسی برائیوں سے نفرت نہیں کی جاتی ، یہاں تک کہ سننے میں آیا ہے کہ بعض ممالک مثلاً برطانیہ میں پارلیمنٹ نے اس کام کو انتہائی بے شرمی سے قانونی جواز دے دیا ہے، لیکن ان برائیوں کے عام ہونے سے ان کی برائی اور قباحت میں ہرگز کوئی کمی نہیں آتی، اور اس کے اخلاقی، نفسیاتی اور اجتماعی مفاسد اپنی جگہ پر ثابت ہیں۔
بعض اوقات مادی مکتب کے بعض پیرو جو اس قسم کی آلودگیوں میں مبتلا ہیں اپنے عمل کی توجیہ کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ اس میں طبی نکتہ نظر سے کوئی خرابی نہیں ہے لیکن وہ یہ بات بھول چکے ہیں کہ اصولی طور پر ہر قسم کا جنسی انحراف انسانی وجود کے تمام ڈھانچے پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کا اعتدال درہم و برہم کردیتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
زنا کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟ پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
اتوار, 09 اکتوبر 2011 05:13

زنا کے ذریعہ خاندانی نظام درہم و برہم ہوجاتاہے، ماں باپ اوراولادکے درمےان رابطہ ختم ہوجاتاہے جبکہ یہ وہ رابطہ ہے جو نہ صرف معاشرے کی شناخت کا سبب ہے بلکہ خود اولاد کی نشو ونما کا موجب بھی ہے، یہی رابطہ ساری عمر محبت کے ستونوں کو قائم رکھتا ہے اور انہیں دوام بخشتاہے۔
المختصر : جس معاشرے میںغیر شرعی اور بے باپ کی او لاد زیادہ ہواس کے اجتماعی روابط سخت متزلزل ہوجاتے ہیں کیونکہ ان روابط کی بنیاد خاندانی روابط ہی ہوتے ہیں۔
اس مسئلہ کی اہمیت سمجھنے کے لئے ایک لمحہ اس بات پر غور کرنا کافی ہے کہ اگر سارے انسانی معاشرے میں زنا جائز اور مباح ہوجائے اور شادی بیاہ کا قانون ختم کردیا جائے تو ان حالات میں غیر معین اور بے ٹھکانہ اولاد پیدا ہوگی، اس اولاد کو کسی کی مدد اور سر پرستی حاصل نہ ہوگی، اسے نہ پیدائش کے وقت کوئی پوچھے گا اور نہ بڑا ہونے کے بعد۔
اس سے قطع نظر برائیوں، سختیوں اور مشکلات میں محبت کی تاثیر تسلیم شدہ ہے جبکہ ایسی اولاد اس محبت سے بالکل محروم ہوجائے گی، اور انسانی معاشرہ پوری طرح تمام پہلوؤں سے حیوانی زندگی کی شکل اختیار کرلے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
قذف اور اسکی سزا پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
پیر, 03 اکتوبر 2011 16:38

تحریر: مشتاق حسین حکیمی

کسی بھی معاشرے کا بقا اور اس کی سلامتی اس بات پر مبتنی ہے کہ اس سو سایٹی میںمجرم کو کس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ہر معاشرے کی سالمیت بھی اسی میں ہے کہ کسی طرح سے خرابیاں اور برایاں کم سے کمتر اور بلکہ نہ ہو نے کے برابر ہو ں ۔ اور اگر کسی معاشرے میں دن دھاڑے گناہ ہوتے ہوں تو اس کی سالمیت اور بقا کی کویی ضمانت نہیںہوتی ۔ ایک اہم چیز جس کی طرف اسلام نے بڑے زور سے تاکید کی ہے وہ گھریلو روابط اور گھریلو نظام اور ازدواجی زندگی کا تحفظ ہے۔ اگر کسی معاشرے میں ازدواجی زندگی سالم رہی اور اس پر آنچ نہ آیا تو میاں بیوی کا رابطہ والدین اور اولاد کا رابطہ اور دیگر رشتہ داروں سے رابطہ پاک اور سالم رہے گا لیکن اگر خدا نخواستہ کہیں یہ ازدواجی زندگی اور گھریلو ماحول آلودہ ہو جاے ۔ میاں بیوی پر بدگمان ہو جاے باپ بیٹے پر اور ماں بیٹی پر تو اس صورت میں یہ بدگمانیاں گھر کی چار دیواری سے نکل کر معاشرے میں قدم رکھیںگی۔ اس لیے اسلام نے ان اقدار کی حفاظت کے لیے سخت سزاووں کا تعین کیا ہے تا کہ کسی میں اتنی جرات نہ ہو کہ آسانی سے کسی کی عزت اور حیثیت سے کھیلا کرے۔ اس لیے تواسلامی قوانین کے مطابق ہر جرم کے لیے ایک سزا معین ہویی ہے جن میں حدود قصاص دیات اور تعزیر شامل ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
اسلام میں عورت کا حق وراثت پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
پیر, 11 جولائی 2011 08:33

اسلام میں عورت کو  بہت ہی عزت و احترام  دینے کے  علاوہ ان کے دوسرے بہت سے حقوق کا خیال رکھنے کی تاکید دی گئی ہے ۔ انہی  حقوق میں سے ایک وراثت کاحق بھی ہے جو عورت کو حاصل ہے ۔ ارشاد ربانی ہے کہ

لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا

’’ماں باپ اور رشتے داروں کے ترکے میں خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ لڑکوں کا حصہ ہے اور ماں باپ اور رشتے داروں کے ترکے میں خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ لڑکیوں کا بھی حصہ ہے اور یہ حصے خدا کی طرف سے مقررہ ہیں‘‘

القرآن، النساء، 4 : 7

مزید پڑھیے۔۔۔
 
میاں بیوی کے باہمی حقوق پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
ہفتہ, 09 جولائی 2011 12:49


درحقیقت خاندان ایک چھوٹامعاشرہ ہے جودوافراد یعنی میاں بیوی کے ذریعے قائم ہے اورمعاشرہ لوگوں کی کثرت کانام نہیں ہے بلکہ ان باہمی تعلقات کانام ہے جن کا ہدف ایک ہو۔

زوجہ کے حقوق

درحقیقت خاندان ایک چھوٹامعاشرہ ہے جودوافراد یعنی میاں بیوی کے ذریعے قائم ہے اورمعاشرہ لوگوں کی کثرت کانام نہیں ہے بلکہ ان باہمی تعلقات کانام ہے جن کا ہدف ایک ہو۔

قرآن کریم نے ان کے درمیان محبت والفت کاہدف اطمینان اورسکون کوقراردیاہے فرماتاہے :

ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودة ورحمة ان فی ذلک لآیات لقوم یتفکرون۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
<< شروع < پچھلا 1 2 3 4 5 6 7 اگلا > آخر >>

صفحہ 3 کا 7

كليه حقوق اين سايت متعلق به انجمن علمی و پژوهشی فقه قضایی است و نقل مطالب بدون ذكر منبع غير مجاز مي باشد
مسؤولیت مقالات به عهده نویسنده بوده، درج مقاله به منزله تایید آن نیست
Template name : Alqaza / Template designed by www.muhammadi.org

SMZmuhammadi July 2010