Home
انجمن فقه قضايي-اردو
۔ دستور پاكستان 1962 میں اسلامی دفعات پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
جمعہ, 03 جون 2011 04:50

ملك میں سیاسی انتشار كے باعث جنرل ایوب خاں نے 1956ئ كا آئین منسوخ كر كے اكتوبر 1958 ئ كو ملك میں مارشل لائ لگا دیا اور نئے آئن كی تیاری كے لیے ایك كمیشن مقرر كر دیا۔ كمیشن نے ایك مسودہ تیار كیا جس میں تمام اختیارات كا سرچشمہ صدر كو بنا دیا گیا 8جون 1962 ئ كو نئے دتور كو لاگو كیا گیا جس كی اسلامی دفعات مندرجہ ذیل ہیں:

i۔  اللہ تعالیٰ كی حاكمیت

قرارداد مقاصد كو بھی 1962ئ كے دستور كے ابتدائیہ میں شامل كیا گیا جس كے مطابق تمام اختیارات كی مالك اللہ تعالیٰ كی ذات ہے۔ اور وہ یہ اختیارات مسلمانوں كو تفویض كرتا ہے جو اس كو مقدس امانت سمجھ كر استعمال كریں گے۔

ii۔  ملك كا نام

دستور میں ملك كا نام جمہوریہ پاكستان تجویز كیا گیا بعد میں ایك ترمیم كے ذریعے ملك كا نام اسلامی جمہوریہ پاكستان ركھا گیاا۔ا

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 28 جون 2011 03:53
مزید پڑھیے۔۔۔
 
پاكستان آيين ميں مجلس شوریٰ ﴿پارلیمنٹ ﴾ كے فرائض پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
جمعہ, 03 جون 2011 04:47

 

مجلس شوریٰ كے دونوں ایوانوں كو قانون سازی میں برابر كے اختیارات حاصل ہوتے ہیں لیكن مالی امور میں قومی اسمبلی زیادہ با اختیار ہے یعنی بجٹ كی منظوری صرف قومی اسمبلی كا كام ہے۔ اس كے فرائض درج ذیل ہیں:

١۔  قانون سازی٢۔  انتظامیہ كی نگرانی ٣۔  مالیاتی اختیارات ٤۔  عدالتی اختیارات ٥۔  انتخابی اختیارات ٦۔  آئین میں ترمیم

١۔  قانون سازي

مجلس شوریٰ ملك كے لیے قوانین بناتی ہے۔ دونوں ایوانوں كو ا س ضمن میں برابر كے اختیارات حاصل ہوتے ہیں ۔

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 28 جون 2011 03:53
مزید پڑھیے۔۔۔
 
ايک دوسرے کي نسبت مياں بيوي کے حقوق پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
اتوار, 15 مئی 2011 08:40

شادی بیاه

نکاح کے بول پڑھنے اور رشتہ ازدواج کے عہد و پيمان کو قبول کرنےسے کل کے لڑکے لڑکي آج کے مياں بيوي اور ايک دوسرے کے شريک حيات بن جاتے ہيں۔ يوں گھروں ميں ايک گھر اور معاشرے ميں ايک نئي ’’اکائي‘‘ کا اضافہ ہوتا ہے۔ اگرچہ کہ حکيم و دانا خالق کي نگاہ ميں مرد و عورت، دو انساني گوہر، دو ايک جيسي آسماني روح اور ايک دوسرے کے مثل و نظير ہيں۔ جب کہ انساني حقيقت کے لحاظ سے ايک دوسرے کي نسبت ہر ايک کي ذمے داري برابر ہے۔ ليکن حکمت ِ خدا نے ان آسماني گوہروں کو ايک دوسرے سے مختلف اور ممتاز پيکروں، البتہ ايک دوسرے کے ضرورت مند ہونے کے احساس کے ساتھ دو زميني گوہروں ميں سمايا ہے۔

يہ ’’رشتہ ازدواج‘‘ وہي عظيم قانون، ہر لحاظ سے مکمل اور جامع سنت، بہترين رسم زندگي اور وہ خوبصورتي و زيبائي ہے کہ جو اس جہان پر حاکم ہے۔

اِسي طرح ’’زوجيت‘‘ کا يہ مقدس رشتہ اِس عالم ہستي کے معمار کے جمال کي پُر عظمت نشانيوں ميں سے ايک نشاني ہے۔

 

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 28 جون 2011 03:54
مزید پڑھیے۔۔۔
 
بيوي پر شوہر کي اطاعت?! پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
اتوار, 15 مئی 2011 08:26

مسلمان خاتون
توجہ فرمايئے کہ اسلامي احکام نے شوہر کے انتخاب اور گھرانے کي تشکيل کي ابتدا ہي سے خواتين کي مدد کرنے کو مدنظر رکھا ہے۔ چونکہ بہت سے مرد، خواتين پر ظلم و ستم کرتے تھے تو اسي ليے اسلام اُن کے ظلم کے سامنے ڈٹ گيا ہے۔

جب ايک گھرانہ تشکيل پاتا ہے تو اسلام کي نظر ميں گھر کے اندر مرد اور عورت دونوں زندگي ميں شريک ہيں اور دونوں کو چاہيے کہ آپس ميں محبت کا سلوک کريں۔ مرد کو يہ حق حاصل نہيں ہے کہ بيوي پر ظلم کرے اور بيوي کو بھي يہ حق حاصل نہيں وہ شوہر سے ناحق بات کہے۔ گھرانے اور خاندان ميں مرد وعورت کے رابطے اور تعلقات بہت ظريف ہيں۔
خداوند عالم نے مرد و عورت کي طبيعت و مزاج اور اسلامي معاشرے اور مرد و عورت کي مصلحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان احکامات کو معين کيا ہے۔ شوہر، صرف چند جگہ کہ ميں صرف ايک مقام کو صراحت سے بيان کرنے پر ہي اکتفاء کروں گا اور ديگر مقام کو يہاں بيان نہيں کروں گا، اپني بيوي کو حکم دينے کا حق رکھتا ہے اور بيوي پر لازم ہے کہ اُسے بجا لائے ۔

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 28 جون 2011 03:56
مزید پڑھیے۔۔۔
 
پردے کی ضرورت پر عقلی دلیل پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
اتوار, 15 مئی 2011 08:22

پردہ کی کیا ضرورت ہے ۔

معاشرے کے آداب اور تقالید جو معاشرے میں اخلاقی دستور بناتے ہیں، ان کا پہلا فرض یہ ہے کہ مرد وعورت کے درمیان ایک محکم اور متین رابطہ قاتم کریں، تاکہ یہ ارتباط جھگڑے اور فساد کا سبب نہ بن جائیں جس کے نتیجہ میں پستی سے دوچار ہونا پڑے ۔ اور اس رابطے کی تنظیم کے لئے بینادی عمل شادی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔

لاندر کا کہنا ہے کہ یاریبا قبیلہ میں بومیان کے درمیان عورت کو شادی کے ذریعے اپنانا ایک ایسا امر ہے کہ جس کی طرف لوگوں کی رغبت بہت کم ہے، گویا عورت کا حصول ان کے نزدیک ایک گندم کا خوشہ توڑنے کے مانند ہے، یعنی عشق و محبت کا تصور ان کے یہاں سرے سے نابود ہے ۔ اس لئے کہ شادی سے پہلے جنسی روابط ان کے درمیان ممنوع عمل نہیں ہے، اس لئے مرد کے سامنے جنسی شہوت کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، جس کے نتیجے میں اس کے دل میں عشق و محبت پیدا نہیں ہو پاتی کہ جس کے سبب اس کے یہاں عورت کے حصول میں شدت کے ساتھ قلبی میلان پیدہو سکے، چنانچہ جوان جب بھی چاہتا ہے اپنی جنسی خواہش کو آسانی سے پورا کر لیتا ہے ۔ لہذا کوئی علت یا سبب ایسا پیدا نہیں ہو پاتاہے جس کے سبب وہ اپنے ضمیر یا احساسات میں پیدا ہونے والی تحریک کے بارے میں غور و فکر کرے، اس تحریک کو خاموش کرنے کی فکر کرے ،اور اپنے اس پسندیدہ میلان کو عظیم تصور کرے ، تاکہ اس میلان اور تحریک کے نتیجے میں ایک دل کش عشق وجود میں آئے ۔ لہذا وہ کہتا ہے کہ اس معاشرے میں عورت و مرد ایک دوسرے سے کوئی رغبت نہیں رکھتے ، اورایک دوسرے کی حالت کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ۔ یہی وجہ ہے کہ شوہر و بیوی کے درمیان بھی کسی قسم کے آثار محبت دیکھنے میں نہیں آتے ہیں ۔

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 28 جون 2011 03:56
مزید پڑھیے۔۔۔
 
<< شروع < پچھلا 1 2 3 4 5 6 7 اگلا > آخر >>

صفحہ 4 کا 7

كليه حقوق اين سايت متعلق به انجمن علمی و پژوهشی فقه قضایی است و نقل مطالب بدون ذكر منبع غير مجاز مي باشد
مسؤولیت مقالات به عهده نویسنده بوده، درج مقاله به منزله تایید آن نیست
Template name : Alqaza / Template designed by www.muhammadi.org

SMZmuhammadi July 2010