Home
انجمن فقه قضايي-اردو
عورتوں کے حقوق اور آزادی کے نعرے پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
پیر, 07 فروری 2011 18:53

خواتین کے حقوق و آزادی کے نعروں اور عنوانات کے تحت مغرب سے اٹھنے والی تحریک آزادی نسواں نے خواتین کے معاشرتی و دیگر مسائل کا حقیقی حل کس حد تک ممکن بنایا ہے، یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ اس تحریک اور گلوبلائزیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کے تناظر میں خواتین کے عالمی دن کی اہمیت پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ یہ تحریک جو اب تہذیب مغرب کا لازمی جزو بن چکی ہی اس کے عالم آشکارا اغراض و مقاصد یہ ہیں کہ عورت کو زندگی کے ہر شعبے میں وہی حقوق و آزادایاں حاصل ہوں جو مرد کو حاصل ہیں۔ دفتروں اور کارخانوں کی ملازمت  تجارتی و صنعتی سرگرمیوں اور دیگر تفریحی مشاغل میں خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کا حق حاصل ہو۔ معاشرہ مساوات مرد و زن کے بنیادی اصول پر استوار ہو۔

 

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 28 جون 2011 03:55
مزید پڑھیے۔۔۔
 
اسلام اور نظریہ حقوق نسواں پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
پیر, 07 فروری 2011 19:03

مسلم خواتین کی طرف سے اسلامی تحریک نسواں یا اسلامک فیمینزم کے تصور کو زیر بحث بنایا جا رہا ہے۔

مسلمانوں کی الہامی کتاب قرآن میں بارہا عورت اور مرد کو برابری کے حقوق دئیے جانے کی بات کی گئی ہے۔ احادیث اور پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بھی ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں مرد کو عورت پر فوقیت نہیں دی گئی۔

 

اسلامی تعلیمات میں عورت کو برابری کے حقوق دئیے گئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ  چودہ سو سال بعد  بھی مسلمان  عورت زمانہ جاہلیت کی ان فرسودہ روایات سے لڑ رہی ہے۔ اسلام کے نام پر زن بیزاری کی بد ترین مثال افغانستان میں طالبان حکومت کے  دور عہد میں پوری دنیا نے دیکھی اور اسے ہی اسلام کا روپ سمجھا۔  اکیسیویں صدی کی مسلمان عورت ان  حقوق کو پانے کے لیے جدو جہد کر رہی ہے جن کا اس سے چودہ سو سال پہلے  وعدہ کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر بدران کے مطابق اسلام عورت کے برابری کے حقوق کا داعی ہے۔ اسلامی نظریہ حقوق نسواں روز اول سے ہی ایک عالمگیر نظریہ ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
حقوق نسواں کے بارے ميں استکبار کي غلطي پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
پیر, 07 فروری 2011 18:58

جاہليت سے مالا مال عالمي استکبار بہت بڑي غلطي ميں ہے کہ جو يہ خيال کرتا ہے کہ ايک عورت کي قدرو قيمت اور بلند مقام اِس ميں ہے کہ وہ خود کو مردوں کيلئے زينت و آرائش کرے تاکہ آوارہ لوگ اسے ديکھيں، اُس سے ہر قسم کي لذت حاصل کريں اور اُس کي تعريف کريں۔ مغرب کي انحطاط شدہ اورمنحرف ثقافت کي جانب سے ’’آزادي نِسواں‘‘ کے عنوان سے جو چيز سامنے آئي ہے اُس کي بنياد اِس چيز پر قائم ہے کہ عورت کو مردوں کي (حيواني اور شہوتي) نگاہوں کا مرکز بنائيں تاکہ وہ اُس سے جنسي لذت حاصل کرسکيں اور عورت ، مردوں کي جنسي خواہشات کي تکميل کيلئے ايک آلہ و وسيلہ بن جائے، کيا اِسي کو ’’آزادي نسواں‘‘ کہا جاتا ہے؟

جو لوگ حقيقت سے جاہل اور غافل مغربي معاشرے اور گمراہ تہذيب و تمدن ميں اس بات کا دعويٰ کرتے ہيں کہ وہ انساني حقوق کے طرفدار ہيں تو درحقيقت يہ لوگ عورت پر ظلم کرنے والوں کے زمرے ميں شمار ہوتے ہيں ۔

آپ عورت کو ايک بلند مرتبہ و مقام کے حامل انسان کي حيثيت سے ديکھئے تاکہ معلوم ہو کہ اُس کا کمال ، حق اور اس کي آزادي کيا ہے؟آپ عورت کوعظيم انسانوں کے سائے ميں پرورش پانے والے اور اصلاح معاشرہ کيلئے ايک مفيد عنصر کي حيثيت سے ديکھے تاکہ يہ معلوم ہو کہ اُس کا حق کيا ہے اور وہ کس قسم کي آزادي کي خواہاں ہے ( اور کون سي آزادي اُس کے انساني مقام ومنصب سے ميل کھاتي ہے)۔

آپ عورت کو ايک گھرانے اور خاندان کي تشکيل دينے والے بنيادي عنصر کي حيثيت سے اپني توجہ کا مرکز قرار ديں۔ درست ہے کہ ايک مکمل گھرانہ مرد اور عورت دونوں سے تشکيل پاتا ہے اور يہ دونوں موجود خاندان کي بنياديں رکھنے اور اُس کي بقا ميں موثر ہيں، ليکن ايک گھرانے کي آسائش اور آرام و سکون عورت کي برکت اور صنفِ نازک کے نرم و لطيف مزاج کي وجہ ہي سے قائم رہتا ہے-

اس زاويے سے عورت کو ديکھئے تاکہ يہ مشخص ہو کہ وہ کس طرح کمال حاصل کرسکتي ہے اور اُس کے حقوق کن امور سے وابستہ ہيں۔

اہل يورپ نے جديد ٹيکنالوجي کو حاصل کرنا شروع کيا اور انيسويں صدي کے اوائل ميں مغربي سرمايہ داروں نے جب بڑے بڑے کارخانے لگائے اور جب اُنہيں کم تنخواہ والے سستے مزدوروں کي ضرورت ہوئي تو انہوں نے ’’آزادي نسواں‘‘ کا راگ الاپنا شروع کرديا تاکہ اِس طرح خواتين کو گھروں سے نکال کر کارخانوں کي طرف کھينچ کر لے جائيں، ايک سستے مزدور کي حيثيت سے اُس کي طاقت سے فائدہ اٹھائيں، اپني جيبوں کو پُرکريں اور عورت کو اُس کے بلند مقام و مرتبے سے تنزُّل ديں۔ مغرب ميں آج جو کچھ ’’آزادي نسواں‘‘ کے نام پر بيان کيا جارہا ہے ، اُس کے پيچھے يہي داستان کار فرماہے ،يہي وجہ ہے کہ مغربي ثقافت ميں عورت پر جو ظلم و ستم ہوا ہے اور مغربي تمدن و ادب ميں عورت کے متعلق جو غلط افکار و نظريات رائج ہيں اُن کي تاريخ ميں مثال نہيں ملتي۔

 
عورتوں کے حقوق اور آزادی کے نعرے (حصّہ دوّم) پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
پیر, 07 فروری 2011 18:56


سرکاری و بین الاقوامی سرپرستی میں میڈیا جس طریقے سے خواتین کے کردار کی تذلیل اور ان کی حیثیت کو مسخ کررہا ہے۔ اس نے خواتین کے لیے ہرسطح پرناخوشگوار ماحول پیدا کردیا ہے۔ اس ضمن میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی محض یہ رپورٹ ہی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے کہ ”خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے پیچھے کمزور عدالتی نظام، کرپٹ پولیس یا مجرموں کی سرکاری و سماجی سرپرستی سے زیادہ اصل وجہ میڈیا کے ذریعے خواتین کی بے جانمود و نمائش اور ان کو”اشیائے تجارت“ کے طور پر پیش کیے جانے کی پالیسی ہی“۔ (سالانہ رپورٹ 2005 ء) اس رپورٹ سے با آسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ خواتین کے ساتھ ہونے والے استحصال اور معاشرتی ناانصافیوں کی اہم وجہ میڈیا کی غیر اخلاقی پالیسی ہے اور اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ خواتین کے حقیقی مسائل، جن میں سب سے اہم عدم تحفظ کا احساس ہے، پس پشت ڈال دیے گئے ہیں۔ اگرچہ حکومتی سطح پر خواتین کی فلاح و بہبود کے ضمن میں بے شمار دعوے کیے جاتے رہے ہیں جن میں سرفہرست پارلیمنٹ میں خواتین کی موثر نمائندگی اور حقوق نسواں پر مبنی قوانین کی منظوری و نفاذ جیسے اقدامات شامل ہیں۔ موجودہ حکومت بھی خواتین کی ترقی کو اپنے منشور کا اہم جزو قرار دیتی ہے۔ توجہ طلب امر یہ کہ موجودہ پارلیمنٹ پہلی خاتون اسپیکر کے ساتھ ساتھ ملکی تاریخ میں اب تک خواتین کی سب سے زیادہ نمائندگی کرنے والی پارلیمنٹ ہے مگر اس کے باوجود ملک بھر میں خواتین کے خلاف جبر و تشدد کے واقعات میں روز بروز اضافہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
عورتوں کے حقوق اور آزادی کے نعرے پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
پیر, 07 فروری 2011 18:54

خواتین کے حقوق و آزادی کے نعروں اور عنوانات کے تحت مغرب سے اٹھنے والی تحریک آزادی نسواں نے خواتین کے معاشرتی و دیگر مسائل کا حقیقی حل کس حد تک ممکن بنایا ہے، یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ اس تحریک اور گلوبلائزیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کے تناظر میں خواتین کے عالمی دن کی اہمیت پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ یہ تحریک جو اب تہذیب مغرب کا لازمی جزو بن چکی ہی اس کے عالم آشکارا اغراض و مقاصد یہ ہیں کہ عورت کو زندگی کے ہر شعبے میں وہی حقوق و آزادایاں حاصل ہوں جو مرد کو حاصل ہیں۔ دفتروں اور کارخانوں کی ملازمت  تجارتی و صنعتی سرگرمیوں اور دیگر تفریحی مشاغل میں خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کا حق حاصل ہو۔ معاشرہ مساوات مرد و زن کے بنیادی اصول پر استوار ہو۔

آخری تازہ کاری بوقت پیر, 07 فروری 2011 18:56
مزید پڑھیے۔۔۔
 
<< شروع < پچھلا 1 2 3 4 5 6 7 اگلا > آخر >>

صفحہ 6 کا 7

كليه حقوق اين سايت متعلق به انجمن علمی و پژوهشی فقه قضایی است و نقل مطالب بدون ذكر منبع غير مجاز مي باشد
مسؤولیت مقالات به عهده نویسنده بوده، درج مقاله به منزله تایید آن نیست
Template name : Alqaza / Template designed by www.muhammadi.org

SMZmuhammadi July 2010