Home
انجمن فقه قضايي-اردو
اسلام اور حقوقِ نسواں پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر حكيمي   
جمعہ, 18 نومبر 2011 15:56

ہم اسلام کے احسانات کو یاد نہیں رکھتے ، بس ان معاملات میں الجھے رہتے ہیں جو ہمارے دل کی تنگی کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔ پھر ہم شکایتیں کرتے ہیں کہ اسلام نے عورت کی حیثیت کو کم کیا ہے۔

جبکہ اسلام نے عورت کو وہ حقوق دئے ہیں جو کسی اور مذہب نے نہیں دئے۔

دنیا کی کسی بھی مذہبی کتاب میں عورتوں کے نام سے کوئی chapter موجود نہیں لیکن قرآن وہ واحد آسمانی کتاب ہے جس میں عورتوں کے نام (النساء) کی ایک مکمل سورۃ موجود ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے واضح کر دیا ہے کہ مرد اور عورت میں سے کس کا درجہ بڑا ہے اور کس کا کم ؟

بےشک مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں جو بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔  (سورۃ:التوبۃ ، آیت:71)

جدیدیت کا مطلب ہم نے یہ لے لیا ہے کہ مرد اور عورت مادر پدر آزاد ہو جائیں، انہیں کوئی روک ٹوک نہ ہو۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
مغرب میں خواتین کے حقوق اور آزادی کا نعرہ پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر حكيمي   
جمعہ, 18 نومبر 2011 15:09

خواتین کے حقوق و آزادی کے نعروں اور عنوانات کے تحت مغرب سے اٹھنے والی تحریک آزادی نسواں نے خواتین کے معاشرتی و دیگر مسائل کا حقیقی حل کس حد تک ممکن بنایا ہے، یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ اس تحریک اور گلوبلائزیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کے تناظر میں خواتین کے عالمی دن کی اہمیت پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ یہ تحریک جو اب تہذیب مغرب کا لازمی جزو بن چکی ہی اس کے عالم آشکارا اغراض و مقاصد یہ ہیں کہ عورت کو زندگی کے ہر شعبے میں وہی حقوق و آزادایاں حاصل ہوں جو مرد کو حاصل ہیں۔ دفتروں اور کارخانوں کی ملازمت  تجارتی و صنعتی سرگرمیوں اور دیگر تفریحی مشاغل میں خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کا حق حاصل ہو۔ معاشرہ مساوات مرد و زن کے بنیادی اصول پر استوار ہو۔

بظاہر خوشنما اور دلفریب منشور اور ایجنڈے کی حامل اس تحریک کا دعویٰ ہے کہ عورت کو اس کے اصل حقوق اسی تحریک اور جدید تہذیب نے دیے ہیں۔ مگر تجزیہ کیا جائے تو اسی تحریک کے نتائج یہ ہیں کہ آج مغرب کی عورت کا دامن نسائیت کی پاکیزگی‘ عصمت و عفت‘حقیقی احساس تحفظ‘ امن و سکون ‘ احترام و وقار اور پائیدار مسرتوں سے خالی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
اسلام؛ حقوقِ انسان اور غلامی پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر حكيمي   
جمعہ, 18 نومبر 2011 15:04



آج مغرب اپنی کج فہمی اور کوتاہ بینی کی وجہ سے جس مسئلہ پر اسلام کو سب سے زیادہ مطعون ٹھہرا رہا ہے اور اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کررہا ہے،وہ مسئلہ غلامی ہے ۔ مغرب کا اس مسئلہ کو اچھالنا دراصل اسلامی احکام کی غلط تفہیم کا نتیجہ ہے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ غلامی کے بارے میں جو نقطہ نظر اسلام نے دیا ہے وہ اس کے کامل و برتر، روشن خیال، بلندظرف ہونے کی بڑی واضح دلیل ہے اور اسلام میں غلامی کا جو تصور اس کا دشمن (مغرب) پیش کررہا ہے، وہ سراسر غلط اوربے بنیاد ہے۔


یہ قرآنِ مجید کا اعجاز ہے کہ ربّ العالمین نے اس میں اسلام کے قانونِ غلامی کونہایت تفصیل اور وضاحت سے بیان کردیا ہے : ﴿يَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَيْرُ الِفَاصِلِيْنَ ﴾(الانعام:۵۷)
’وہی (اللہ) حق کو بیان کرتاہے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔“
پھر وہ حقوق کسی مفسر کے استنباط کانتیجہ نہیں بلکہ صریحاً وہ حقوق موجود ہیں جن کا تحفظ مطلوب ہے۔ پھر اسلام کا قانونِ غلامی، عدل و انصاف کا ایسا نمونہ ہے جس میں عدل کی وسعت درجہ کمال کو پہنچی ہوئی ہے ۔ اس سے بڑھ کر کیا انصاف ہوگا کہ اسلام جہاں غلام کویہ حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے آقا کے حقوق پورے کرے، وہاں آقا کوبھی یہ حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے غلام کے حقوق پورے کرے اور اسے خبردار کرتا ہے کہ روزِقیامت تجھے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
محارم سے شادی کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟ پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
اتوار, 09 اکتوبر 2011 05:19

جیسا کہ ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں:
<حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اٴُمَّہَاتُکُمْ وَبَنَاتُکُمْ وَاٴَخَوَاتُکُمْ وَعَمَّاتُکُمْ وَخَالاَتُکُمْ وَبَنَاتُ الْاٴَخِ وَبَنَاتُ الْاٴُخْتِ وَاٴُمَّہَاتُکُمْ اللاَّتِی اٴَرْضَعْنَکُمْ وَاٴَخَوَاتُکُمْ مِنْ الرَّضَاعَةِ وَاٴُمَّہَاتُ نِسَائِکُمْ وَرَبَائِبُکُمْ اللاَّتِی فِی حُجُورِکُمْ مِنْ نِسَائِکُمْ اللاَّتِی دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَإِنْ لَمْ تَکُونُوا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْکُمْ وَحَلاَئِلُ اٴَبْنَائِکُمْ الَّذِینَ مِنْ اٴَصْلاَبِکُمْ وَاٴَنْ تَجْمَعُوا بَیْنَ الْاٴُخْتَیْنِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللهَ کَانَ غَفُورًا رَحِیمًا>(1)
”تمہارے اوپر تمہاری مائیں، بیٹیاں ،بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، وہ مائیں جنھوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے تمہاری رضاعی (دودھ شریک) بہنیں، تمہاری بیویوں کی مائیں، تمہاری پروردہ عورتیں جو تمہاری آغوش میں ہیں اور ان عورتوں کی اولاد جن سے تم نے دخول کیا ہے، ہاں اگر دخول نہیں کیا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے، اور تمہارے فرزندوں کی بیویاں جو فرزند تمہارے صلب سے ہیں اور دو بہنوں کا ایک ساتھ جمع کرنا سب حرام کردیا گیا ہے، علاوہ اس کے جو اس سے پہلے ہوچکا ہے کہ خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے“۔
اس آیہٴ شریفہ میں یہ بیان ہوا کہ محرم عورتیں کون کون ہے جن سے شادی کرنا حرام ہے، اور اس لحاظ سے تین طریقوں سے محرمیت پیدا ہوسکتی ہے:
۱۔ ولادت کے ذریعہ، جس کو ”نسبی رشتہ“ کہا جاتا ہے۔
۲۔ شادی بیاہ کے ذریعہ، جس کو ”سببی رشتہ“ کہا جاتا ہے۔
۳۔ دودھ پلانے کے ذریعہ ، جس کو ”رضاعی رشتہ“ کہتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
شراب کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟ پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
اتوار, 09 اکتوبر 2011 05:17

انسان کی عمر پرشراب کا اثر
ایک مغربی دانشور کا کہنا ہے کہ ۲۱/ سے ۲۳/ سالہ جوانوں میں ۵۱/ فی صد شراب کے عادی مرجاتے ہیں جبکہ شراب نہ پینے والوں میں سے ۱۰ /افراد بھی نہیں مرتے۔
ایک دوسرے مشہور دانشور نے کہا: بیس سالہ جوان جن کے بارے میں ۵۰/ سال تک زندہ رہنے کی توقع کی جاتی ہے وہ شراب کی وجہ سے ۳۵/ سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے۔
بیمہ کمپنیوں کے تجربات سے ثابت ہوچکا ہے کہ شرابیوں کی عمر دوسروں کی نسبت ۲۵/ سے ۳۰/فیصد کم ہوتی ہے۔ ایک دوسرے اعداد و شمار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شرابیوں کی اوسط عمر ۳۵/ سے ۵۰/ سال ہے، جبکہ اصول صحت کا یہ اوسط ۶۰/ سال سے زیادہ ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
<< شروع < پچھلا 1 2 3 4 5 6 7 اگلا > آخر >>

صفحہ 2 کا 7

كليه حقوق اين سايت متعلق به انجمن علمی و پژوهشی فقه قضایی است و نقل مطالب بدون ذكر منبع غير مجاز مي باشد
مسؤولیت مقالات به عهده نویسنده بوده، درج مقاله به منزله تایید آن نیست
Template name : Alqaza / Template designed by www.muhammadi.org

SMZmuhammadi July 2010