Home فقه القضاء The Project پاكستان آيين ميں مجلس شوریٰ ﴿پارلیمنٹ ﴾ كے فرائض
پاكستان آيين ميں مجلس شوریٰ ﴿پارلیمنٹ ﴾ كے فرائض پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
جمعہ, 03 جون 2011 04:47

 

مجلس شوریٰ كے دونوں ایوانوں كو قانون سازی میں برابر كے اختیارات حاصل ہوتے ہیں لیكن مالی امور میں قومی اسمبلی زیادہ با اختیار ہے یعنی بجٹ كی منظوری صرف قومی اسمبلی كا كام ہے۔ اس كے فرائض درج ذیل ہیں:

١۔  قانون سازی٢۔  انتظامیہ كی نگرانی ٣۔  مالیاتی اختیارات ٤۔  عدالتی اختیارات ٥۔  انتخابی اختیارات ٦۔  آئین میں ترمیم

١۔  قانون سازي

مجلس شوریٰ ملك كے لیے قوانین بناتی ہے۔ دونوں ایوانوں كو ا س ضمن میں برابر كے اختیارات حاصل ہوتے ہیں ۔

یعنی ایك بل ایك ایوان سے پاس ہونے كے بعد دوسرے ایوان كے پاس جاتاہے یا اگر دوسرا ایوان مخصوصہ بل كو پہلے پاس كرتا ہے تو وہ پہلے ایوان كے پاس منظوری كے لیے جاتاہے۔ وفاقی امور كی لسٹ میں مجلس شوریٰ كو قانون سازی كا پورا اختیار حاصل ہے۔ مشتركہ امور كی لسٹ میں سے بھی وفاقی پارلیمنٹ قانون بنا سكتی ہے۔

 

٢۔  انتظامیہ كی نگرانی


مجلس شوریٰ انتظامیہ پر كنٹرول كی مجاز ہوتی ہے۔ وزیر اعظم او ر اس كی كابینہ پارلیمنٹ كے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں ۔ وقفہ سوالات كے دوران وزرائ انفرادی یا اجتماعی طورپر سوالات كے جواابات دیتے ہیں۔ وزیر اعظم اور ا س كی كابینہ اس وقت تك اپنے فرائض سر انجا م دے سكتے ہیں جب تك انہیں مقننہ كا اعتماد حاصل ہوتا ہے۔

٣۔  مالیاتی اختیارات


پارلیمنٹ كا ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی ہر سال بجٹ پاس كرتی ہے۔ پارلیمنٹ كی منظوری كے بعد حكومت قومی خزانے سے ایك پیسہ بھی خرچ نہیں كر سكتی۔ اس طرح حكومت كو ٹیكس لگانے یا ٹیكس كو ختم كرنے كے لیے پارلیمنٹ سے منظوری لینی پڑتی ہے۔

٤۔  عدالتی اختیارات


پارلیمنٹ كے دونوں ایوان سپریم كورٹ كے ججوں كی تعداد مقرر كرتے ہیں اور اس كے دوران ان كی سروس كے متعلقہ امور كی بھی منظوری دیتے ہیں۔

٥۔  انتخابی اختیارات


مجلس شوریٰ كے دونوں ایوان مل كر صدر كا انتخاب كرتے ہیں۔ وزیر اعظم كا انتخاب قومی اسمبلی كرتی ہے اور اس كے علاوہ سپیكر اورڈپٹی سپیكر كا انتخاب قومی اسمبلی اور سینٹ بالترتیب كرتے ہیں۔

٦۔  آئین میں ترمیم


مجلس شوریٰ كے دونوں ایوان آئین میں ترمیم كر سكتے ہیں۔ لیكن ترمیم كرتے وقت ہر ایوان كے كل ااركان كی تعداد كی 2/3اكثریت كی منظوری لازمی  ہوتی ہے۔ دونوںایوان مشتركہ اجلاس میں بھی آئین میں ترمیم كر سكتے ہیں۔

آخری تازہ کاری بوقت منگل, 28 جون 2011 03:53
 

كليه حقوق اين سايت متعلق به انجمن علمی و پژوهشی فقه قضایی است و نقل مطالب بدون ذكر منبع غير مجاز مي باشد
مسؤولیت مقالات به عهده نویسنده بوده، درج مقاله به منزله تایید آن نیست
Template name : Alqaza / Template designed by www.muhammadi.org

SMZmuhammadi July 2010