Home
محارم سے شادی کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟ پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر Administrator   
اتوار, 09 اکتوبر 2011 05:19

جیسا کہ ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں:
<حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اٴُمَّہَاتُکُمْ وَبَنَاتُکُمْ وَاٴَخَوَاتُکُمْ وَعَمَّاتُکُمْ وَخَالاَتُکُمْ وَبَنَاتُ الْاٴَخِ وَبَنَاتُ الْاٴُخْتِ وَاٴُمَّہَاتُکُمْ اللاَّتِی اٴَرْضَعْنَکُمْ وَاٴَخَوَاتُکُمْ مِنْ الرَّضَاعَةِ وَاٴُمَّہَاتُ نِسَائِکُمْ وَرَبَائِبُکُمْ اللاَّتِی فِی حُجُورِکُمْ مِنْ نِسَائِکُمْ اللاَّتِی دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَإِنْ لَمْ تَکُونُوا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْکُمْ وَحَلاَئِلُ اٴَبْنَائِکُمْ الَّذِینَ مِنْ اٴَصْلاَبِکُمْ وَاٴَنْ تَجْمَعُوا بَیْنَ الْاٴُخْتَیْنِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللهَ کَانَ غَفُورًا رَحِیمًا>(1)
”تمہارے اوپر تمہاری مائیں، بیٹیاں ،بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، وہ مائیں جنھوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے تمہاری رضاعی (دودھ شریک) بہنیں، تمہاری بیویوں کی مائیں، تمہاری پروردہ عورتیں جو تمہاری آغوش میں ہیں اور ان عورتوں کی اولاد جن سے تم نے دخول کیا ہے، ہاں اگر دخول نہیں کیا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے، اور تمہارے فرزندوں کی بیویاں جو فرزند تمہارے صلب سے ہیں اور دو بہنوں کا ایک ساتھ جمع کرنا سب حرام کردیا گیا ہے، علاوہ اس کے جو اس سے پہلے ہوچکا ہے کہ خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے“۔
اس آیہٴ شریفہ میں یہ بیان ہوا کہ محرم عورتیں کون کون ہے جن سے شادی کرنا حرام ہے، اور اس لحاظ سے تین طریقوں سے محرمیت پیدا ہوسکتی ہے:
۱۔ ولادت کے ذریعہ، جس کو ”نسبی رشتہ“ کہا جاتا ہے۔
۲۔ شادی بیاہ کے ذریعہ، جس کو ”سببی رشتہ“ کہا جاتا ہے۔
۳۔ دودھ پلانے کے ذریعہ ، جس کو ”رضاعی رشتہ“ کہتے ہیں۔
پہلے نسبی محارم کا ذکر کیا گیا ہے جن کی سات قسمیں ہیں، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:
<حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اٴُمَّہَاتُکُمْ وَبَنَاتُکُمْ وَاٴَخَوَاتُکُمْ وَعَمَّاتُکُمْ وَخَالَا تُکُمْ وَبَنَاتُ الْاٴَخِ وَبَنَاتُ الْاٴُخْتِ>
”تمہارے اوپر تمہاری مائیں، بیٹیاں ،بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں حرام ہیں“۔
یہاں پر یہ توجہ رہے کہ ماں سے مراد صرف وہ ماں نہیں ہے جس سے انسان پیدا ہوتا ہے، بلکہ دادی ، پردادی، نانی اور پر نانی کو بھی شامل ہے، اسی طرح بیٹیوں سے مراد اپنی بیٹی مراد نہیں ہے بلکہ ، پوتی اور نواسی اور ان کی بیٹیاں بھی شامل ہیں، اسی طرح دوسری پانچ قسموں میں بھی ہے۔
یہ بات یونہی واضح ہے کہ سبھی اس طرح کی شادیوں سے نفرت کرتے ہیں اسی وجہ سے تمام قوم و ملت (کم لوگوں کے علاوہ) محارم سے شادی کو حرام جانتے ہیں، یہاں تک کہ مجوسی جو اپنی کتابوں میں محارم سے شادی کو جائزما نتے تھے، لیکن آج کل وہ بھی انکار کرتے ہیں۔
اگرچہ بعض لوگوں کی کوشش یہ ہے کہ اس موضوع کو ایک پرانی رسم و رواج تصور کریں، لیکن ہم یہ بات جانتے ہیں کہ تمام نوعِ بشر میں قدیم زمانہ سے ایک عام قانون کا پایا جانا اس کے فطری ہونے کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ رسم و رواج ایک عام اور دائمی صورت میں نہیں ہوسکتا۔
اس کے علاوہ آج یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے کہ ہم خون کے ساتھ شادی کرنے میں بہت سے نقصانات پائے جاتے ہیں یعنی پوشیدہ اور موروثی بیماریاں ظاہر اور شدید ہوجاتی ہیں، (نہ یہ کہ خود ان سے بیماری پیدا ہوتی ہے) یہاں تک کہ بعض محارم کے علاوہ دیگر رشتہ داری میں شادی کو اچھا نہیں مانتے جیسے دو بھائیوں کی لڑکی لڑکا شادی کریں، دانشوروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کی شادیوں میں ارثی بیماریوں میں شدت پیدا ہوتی ہے(2)
لیکن یہ مسئلہ دور کی رشتہ داریوں میں کوئی مشکل پیدا نہیں کرتا (جیسا کہ معمولاً نہیں کرتا) البتہ قریبی رشتہ داری (یعنی ایک خون )میں بہت سی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
اس کے علاوہ محارم کے درمیان معمولاً جنسی جذابیت اور کشش نہیں پائی جاتی کیونکہ غالباً محارم ایک ساتھ بڑے ہوتے ہیں، اور ایک دوسرے کے لئے عام طریقہ سے ہوتے ہیں، مگر بعض نادر اور استثنائی موارد میں جن کو عام قوانین کا معیار نہیں بنایا جاسکتا، اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ جنسی خواہشات شادی بیاہ کے برقرار رہنے کے لئے ضروری ہے، لہٰذا اگر محارم کے ساتھ شادی ہو بھی جائے تو ناپائیدار اور غیر مستحکم ہوگی۔
اس کے بعد رضاعی محارم کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے: < وَاٴُمَّہَاتُکُمْ اللاَّتِی اٴَرْضَعْنَکُمْ وَاٴَخَوَاتُکُمْ مِنْ الرَّضَاعَةِ> ”وہ مائیں جنھوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے، اور تمہاری رضاعی (دودھ شریک) بہنیں تم پر حرام ہیں“۔
اگرچہ آیت کے اس حصہ میں صرف رضاعی ماں اور بہن کی طرف اشارہ ہوا ہے لیکن متعددروایات معتبر کتابوں میں موجود ہیں جن میں بیان ہو ا ہے کہ رضاعی محرم صرف انھیں دو میں منحصرنہیں ہے بلکہ پیغمبر اکرم (ص) کی مشہور و معروف حدیث کے پیش نظر دوسرے افراد میں شامل ہیں، جیسا آنحضرت (ص)نے ارشاد فرمایا: ”یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب“ (یعنی تمام وہ افراد جو نسب کے ذریعہ حرام ہوتے ہیں (رضاعت) دودھ کے ذریعہ بھی حرام ہوجاتے ہیں)
البتہ محرمیت ایجاد ہونے کے لئے کتنی مقدار میں دودھ پلایا جائے اس کی کیفیت کیا ہونی چاہئے اس کی تفصیل کے لئے فقہی کتابوں (یاتوضیح المسائل وغیرہ) کا مطالعہ فرمائیں۔
رضاعی محارم کی حرمت کا فلسفہ یہ ہے کہ دودھ کے ذریعہ انسان کے گوشت اور ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں لہٰذا اگر کوئی عورت کسی بچہ کو دودھ پلاتی ہے تووہ اس کی اولاد جیسی ہوجاتی ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی عورت کسی بچہ کو ایک مخصوص مقدار میں دودھ پلائے تو اس دودھ سے اس بچہ کے بدن میں رشد و نمو ہوتا ہے جس سے اس بچہ اور اس عورت کے بچوں میں شباہت پیدا ہوتی ہے، در اصل دونوں اس عورت کے بدن کا ایک حصہ شمار ہوں گے جس طرح دو نسبی بھائی۔
اس کے بعد قرآن مجید نے محارم کی تیسری قسم کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس کو چند عنوان کے تحت بیان کیا ہے:
۱۔ وَ اٴمِّہَاتُ نِسَائِکُمْ: ”تمہاری بیویوں کی مائیں“ یعنی جب انسان کسی عورت سے نکاح کرتا ہے اور صیغہ عقد جاری کرتا ہے تو اس عورت کی ماں اور اس کی ماں کی ماں اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہیں۔
۲۔ <وَرَبَائِبُکُمْ اللاَّتِی فِی حُجُورِکُمْ مِنْ نِسَائِکُمْ اللاَّتِی دَخَلْتُمْ بِہِنَّ>”تمہاری پروردہ لڑکیاں جو تمہاری آغوش میں ہیں یعنی تمہاری ان بیویوں کی اولاد جن سے تم نے دخول کیا ہے، وہ تم پر حرام ہیں“ گویا اگرکسی عورت سے صرف نکاح کیا ہے اور اس کے ساتھ ہمبستری نہیں کی اور اس عورت کی پہلے شوہر سے کوئی لڑکی ہو تو وہ حرام نہیں ہوگی،مگر اس بیوی سے ہمبستری کی ہو تو اس صورت میں وہ لڑکی بھی حرام ہوجائے گی، یہاں اس قید کا ہونا اس بات کی تائید کرتا ہے کہ ساس (خوش دامن)کے سلسلہ میں یہ شرط نہیں ہے (کیونکہ خوشدامن اس صورت میں حرام ہوتی ہے کہ جب بیوی کے ساتھ ہمبستری کی ہو) لہٰذا وہاں حکم مطلق ہے یعنی چاہے اپنی بیوی سے ہمبستری کی ہو یا نہ کی ہو ہر صورت میں ساس حرام ہے۔
اگرچہ ”فِی حُجُورِکُمْ“ کی ظاہری قید (یعنی تمہارے گھر میں ہو) سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اگر بیوی کے پہلے شوہر سے لڑکی ہو ، اور وہ تمہارے گھر میں پرورش نہ پائے تو وہ اس صورت میں حرام نہیں ہے، لیکن دوسری روایات کے قرینہ اور اس حکم کے قطعی ہونے کی بنا پر یہ ”قید احترازی“ نہیں ہے ، ( یعنی یہ قید موضوع کو محرز اور معین کرنے کے لئے نہیں ہے) بلکہ اس سے حرمت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اس جیسی لڑکیوں کی عمر کم ہوتی ہے جن کی مائیں دوبارہ شادی کرتی ہیں اور وہ معمولاً سوتیلے باپ کی گھر میں اس کی لڑکیوں کی طرح پرورش پاتی ہیں، آیہٴ شریفہ کہتی ہے کہ در اصل یہ تمہاری بیٹیوں کی طرح ہیں، کیا کوئی اپنی بیٹی سے شادی کرتا ہے؟! چنانچہ اسی وجہ سے انھیں ”ربیبہ“ کہا گیا ہے جس کے معنی پرورش پانے والی ہے۔
اس حصہ میں اس کی مزید تاکید ہوتی ہے کہ اگر اس زوجہ سے ہمبستری نہ کی ہو تو ان کی لڑکیاں تم پر حرام نہیں ہیں، <فَإِنْ لَمْ تَکُونُوا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْکُمْ >
۳۔ <وَحَلاَئِلُ (1) اٴَبْنَائِکُمْ الَّذِینَ مِنْ اٴَصْلاَبِکُمْ >”اور تمہارے فرزندوں کی بیویاں جو فرزند تمہارے صلب سے ہیں “
در اصل ”مِنْ اٴَصْلاَبِکُمْ “ (تمہارے صلب سے ہو نے ) کی قید دور ِجاہلیت کی ایک غلط رسم کو ختم کرنے کے لئے ہے کیونکہ اس زمانہ میں رائج تھا کہ بعض افراد کو اپنا بیٹا بنا لیتے تھے، یعنی اگر
(1) ”حلائل “جمع” حلیلہ“مادہ ”حل“سے ہے اور اس سے وہ عورت مراد ہے جو انسان پر حلال ہے ،یا مادہ” حلول “ سے ہے جس سے مراد وہ عورت ہے جو ایک انسان کے پاس ایک ساتھ زندگی گزارتی ہو اور اس سے جنسی تعلقات رکھتی ہو
کوئی کسی دوسرے کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنالے تو اس پر حقیقی بیٹے کے تمام احکام نافذ کیا کرتے تھے، اسی وجہ سے منھ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح نہیں کرتے تھے، لیکن اسلام نے منھ بولے بیٹے کو بیٹا قرار نہیں دیا اور اس غلط رسم و رواج کو بے بنیاد قرار دیدیا۔
۴۔ <وَاٴَنْ تَجْمَعُوا بَیْنَ الْاٴُخْتَیْنِ > ”اور تمہارے لئے دو بہنوں کا ایک ساتھ جمع کرنا حرام کردیا گیا ہے“، یعنی ایک وقت میں دو بہنوں کا رکھنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر دو بہنوں سے مختلف زمانہ میں اور پہلی بہن کی جدائی کے بعد نکاح کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
کیونکہ دور جاہلیت میں دو بہنوں کو ایک ساتھ رکھنے کا رواج تھا اور چونکہ بعض لوگ ایسا کئے ہوئے تھے لہٰذا قرآن مجید میں اضافہ کیا گیا: <إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ>”علاوہ اس کے جو اس سے پہلے ہوچکا ہے “ ، یعنی یہ حکم (دوسرے احکام کی طرح) گزشتہ پر عطف نہیں کیا جائے گا اور جن لوگوں نے اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے ایسا کیا ہے ان کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی اگرچہ اب ان دونوں میں سے ایک بیوی کا انتخاب کرے اور دوسری کو آزاد کردے۔
اور شاید اس طرح کی شادی سے روکنے کا راز یہ ہو کہ دو بہنیں نسبی لحاظ سے ایک دوسرے سے بہت زیادہ محبت اور تعلق رکھتی ہیں، لیکن جس وقت ایک دوسرے کی رقیب ہوجائیں تو پھر اس گزشتہ رابطہ کو محفوظ نہیں رکھ سکتیں، اس طرح ان کی ”محبت میں تضاد“ پیدا ہوجائے گا جو ان کی زندگی کے لئے نقصان دہ ہے، کیونکہ ”محبت“ اور ”رقابت“ میں ہمیشہ کشمکش اور مقابلہ پایا جاتا ہے۔(3)
(1)سورہٴ نساء آیت۲۳
(2)البتہ اسلام نے چچا زاد بھائی بہن میں شادی کو حرام قرار نہیں دیا ہے، کیونکہ ان کی شادی محارم سے شادی کی طرح نہیں ہے، اور اس طرح کی شادیوں میں خطرہ کم پایا جاتا ہے، اور ہم نے اس طرح کی بہت سی شادی دیکھی ہیں جن کے بچے صحیح و سالم ہیں اور استعداد و صلاحیت کے لحاظ سے بھی کوئی مشکل نہیں ہے
(3) تفسیر نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۳۲۶
islaminurdu.nom

 

كليه حقوق اين سايت متعلق به انجمن علمی و پژوهشی فقه قضایی است و نقل مطالب بدون ذكر منبع غير مجاز مي باشد
مسؤولیت مقالات به عهده نویسنده بوده، درج مقاله به منزله تایید آن نیست
Template name : Alqaza / Template designed by www.muhammadi.org

SMZmuhammadi July 2010