Home
مغرب میں خواتین کے حقوق اور آزادی کا نعرہ پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر حكيمي   
جمعہ, 18 نومبر 2011 15:09

خواتین کے حقوق و آزادی کے نعروں اور عنوانات کے تحت مغرب سے اٹھنے والی تحریک آزادی نسواں نے خواتین کے معاشرتی و دیگر مسائل کا حقیقی حل کس حد تک ممکن بنایا ہے، یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ اس تحریک اور گلوبلائزیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کے تناظر میں خواتین کے عالمی دن کی اہمیت پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ یہ تحریک جو اب تہذیب مغرب کا لازمی جزو بن چکی ہی اس کے عالم آشکارا اغراض و مقاصد یہ ہیں کہ عورت کو زندگی کے ہر شعبے میں وہی حقوق و آزادایاں حاصل ہوں جو مرد کو حاصل ہیں۔ دفتروں اور کارخانوں کی ملازمت  تجارتی و صنعتی سرگرمیوں اور دیگر تفریحی مشاغل میں خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کا حق حاصل ہو۔ معاشرہ مساوات مرد و زن کے بنیادی اصول پر استوار ہو۔

بظاہر خوشنما اور دلفریب منشور اور ایجنڈے کی حامل اس تحریک کا دعویٰ ہے کہ عورت کو اس کے اصل حقوق اسی تحریک اور جدید تہذیب نے دیے ہیں۔ مگر تجزیہ کیا جائے تو اسی تحریک کے نتائج یہ ہیں کہ آج مغرب کی عورت کا دامن نسائیت کی پاکیزگی‘ عصمت و عفت‘حقیقی احساس تحفظ‘ امن و سکون ‘ احترام و وقار اور پائیدار مسرتوں سے خالی ہے۔

خواتین کی آزادی و بے باکی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ شرم و حیا اور عفت و پاکیزگی اس کے نزدیک بے معنی الفاظ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مغربی معاشرے کی اخلاقی ساکھ تباہی کے دہانے پر ہے اور خود صحیح الفکر مغربی مفکرین اور دانشور برملا اپنی تحریروں میں اس مادر پدر، آزادی پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔ درحقیقت ہر شعبہ زندگی میں خواتین کو مردوں سے مسابقت کا موقع دے کر مغرب کی سرمایہ دارانہ ذہنیت نے اپنے لیے معاشی فوائد اور مادی ترقی کی راہیں ڈھونڈے کی کوشش کی۔ ایک طرف تو اس ذہنیت نے عورت کو گھر کی چاردیواری کے امن و سکون سے باہر نکال کر فیکٹریوں اور کارخانوں میں لا کھڑا کیا اور یوں افرادی قوت میں اضافے کے ذریعے بے مثال معاشی فوائد حاصل کیے۔ دوسری طرف میڈیا کی دنیا میں عورت کے حسن و جمال کو اپنے لیے ”کمیوڈیٹی “ کے طور پر استعمال کیا۔ دونوں راستوں کے ذریعے مغرب کے سرمایہ دار طبقے نے اپنی مادی ترقی کو بام عروج تک پہنچا دیا۔ اس تحیرخیز ترقی اور چکاند نے دیگر ممالک کو بھی اپنی جانب راغب کیا۔ اور یوں چند ہی سالوں میں مغرب کی یہ مادی ترقی اور سرمایہ دارانہ ذہنیت اپنی تمام تر حشر سامانیوں سمیت پوری دنیا میں پھیل گئی۔ عالمی تجارتی کمپنیوں نے پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں کو معاشی ترقی کا جھانسہ دے کر خواتین سے متعلق اپنے ایجنڈے کو بھر پور طاقت دی۔ اخلاقی و معاشرتی تباہی جیسے سنگین مسائل سے صرف نظرکرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج پاکستان سمیت دیگر ممالک میں سماجی، سیاسی،  معاشی ہر سطح پر خواتین کا استحصال عروج پر پہنچا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

سرکاری و بین الاقوامی سرپرستی میں میڈیا جس طریقے سے خواتین کے کردار کی تذلیل اور ان کی حیثیت کو مسخ کررہا ہے۔ اس نے خواتین کے لیے ہرسطح پرناخوشگوار ماحول پیدا کردیا ہے۔ اس ضمن میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی محض یہ رپورٹ ہی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے کہ ”خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے پیچھے کمزور عدالتی نظام، کرپٹ پولیس یا مجرموں کی سرکاری و سماجی سرپرستی سے زیادہ اصل وجہ میڈیا کے ذریعے خواتین کی بے جانمود و نمائش اور ان کو”اشیائے تجارت“ کے طور پر پیش کیے جانے کی پالیسی ہی“۔ (سالانہ رپورٹ 2005 ء) اس رپورٹ سے با آسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ خواتین کے ساتھ ہونے والے استحصال اور معاشرتی ناانصافیوں کی اہم وجہ میڈیا کی غیر اخلاقی پالیسی ہے اور اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ خواتین کے حقیقی مسائل، جن میں سب سے اہم عدم تحفظ کا احساس ہے، پس پشت ڈال دیے گئے ہیں۔ اگرچہ حکومتی سطح پرخواتین کی فلاح و بہبود کے ضمن میں بے شمار دعوے کیے جاتے رہے ہیں جن میں سرفہرست پارلیمنٹ میں خواتین کی موثر نمائندگی اور حقوق نسواں پر مبنی قوانین کی منظوری و نفاذ جیسے اقدامات شامل ہیں۔ موجودہ حکومت بھی خواتین کی ترقی کو اپنے منشور کا اہم جزو قرار دیتی ہے۔ توجہ طلب امر یہ کہ موجودہ پارلیمنٹ پہلی خاتون اسپیکر کے ساتھ ساتھ ملکی تاریخ میں اب تک خواتین کی سب سے زیادہ نمائندگی کرنے والی پارلیمنٹ ہے مگر اس کے باوجود ملک بھر میں خواتین کے خلاف جبر و تشدد کے واقعات میں روز بروز اضافہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔

عافیہ صدیقی، تسلیم سولنگی اور ماریہ شاہ جیسے اندوہناک سانحات کے باوجود اس ضمن میں کسی قسم کی عدم پیشرفت نہ صرف موجودہ خواتین ارکان پارلیمنٹ کی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی پیدا ہوا ہے کہ حقوق نسواں کے قوانین اور پارلیمنٹ میں خواتین کی موجودگی جیسے اقدامات (جو در اصل ترقی نسواں کی مغربی تحریک سے مرعوبیت کے تحت عمل میں لائے گئے ہیں) محض نمائشی اور مصنوعی ہیں اور یہ خواتین کو ان کا بنیادی حق، یعنی معاشرتی احساس تحفظ، دینے میں بھی ممد و  معاون ثابت نہیں ہو سکے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مغرب کی تحریک برائے حقوق نسواں کے اثرات، جو پوری دنیا میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں، یہ حقیقت کھول دینے کے لیے کافی ہیں کہ یہ تحریک خواتینکو ان کا حقیقی معاشرتی مقام و مرتبہ دینے میں نہ صرف یہ کہ نا کام ہے بلکہ اس نے آج کی عورت سے اس کی اصل حیثیت چھین کر اسے بیچ چورا ہے میں لاکھڑا کیا ہے۔  تمام تر اسلامی حکومتوں اور دیگر معاشرتی طبقات کو اس حقیقت کا ادراک کرلینا چاہیے کہ عورت کے اصل حقوق، شخصی آزادی، حیثیت و مرتبے اور عفت و عصمت کا حقیقی محافظ مغربی نظام نہیں بلکہ وہ اسلامی نظام ہے جس نے 14 سو سال قبل بھی عورت کا دامن حقیقی احساس تحفظ، امن و سکون اور دائمی راحتوں سے بھردیا تھا اور آج بھی یہی نظام عورت کو اس کا اصل مرتبہ اور حقوق دینے کی مکمل اہلیت اور صلاحیت رکھتا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ حقوق نسواں کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات مغربی ایجنڈے کے تحت کرنے کے بجائے اسلامی اقدار و روایات سرفہرست رکھ کر کیے جائیں۔ سب سے پہلے قدم کے طور پر میڈیا کے ذریعے خواتین کے استحصال کی بیخ کنی ہو۔ تعلیم و صحت، وراثت اور حق ملکیت جیسے دیگر حقوق جو اسلامی شریعت نے عورت کو عطا کیے فی الواقع عورت کو یہ حقوق دے کر اس کی اہمیت کا احترام کیا جائے۔ محض اسی صورت میں خواتین کے ساتھ ہونے والی معاشرتی ناانصافیوں، زیادتیوں، سماجی تعصبات اور مشکلات کا حل ممکن ہے۔

تبیان

 

كليه حقوق اين سايت متعلق به انجمن علمی و پژوهشی فقه قضایی است و نقل مطالب بدون ذكر منبع غير مجاز مي باشد
مسؤولیت مقالات به عهده نویسنده بوده، درج مقاله به منزله تایید آن نیست
Template name : Alqaza / Template designed by www.muhammadi.org

SMZmuhammadi July 2010