Home
حقوق نسواں اور بیچاری خواتین پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر حكيمي   
جمعہ, 18 نومبر 2011 16:08

انسانی فطرت ہے کہ اگر اسے کسی اعلی طاقت کا خوف نہ ہو تو وہ بہیمیت کی انتہا کو پہنچنے سے بھی دریغ نہیں کرتا، کمزوروں کو دبانا اور انہیں اپنی خدمت اور آسائش کے لئے استعمال کرنا انسانی تاریخ کا مکروہ ترین باب ہے۔ اور اس پورے باب میں چونکہ عورت سب سے کمزور اور قوت مدافعت سے عاری مخلوق تھی لہذا اس کی اس کمزوری سے بھر پور فائدہ اٹھایا گیا اور اسے جانوروں سے بھی بد تر سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ بازاروں کے میلوں میں ان کی خریدوفروخت کی جاتی تھی،راہبانہ مذاہب میں لڑکیوں کو باعث نحوست اور گناہ کا سرچشمہ تصور کیا جاتا تھا۔اور ہندوستان کے بعض علاقوں میں آج بھی ”ستی“ کی رسم ایک مذہبی روایت کے طور پر رائج ہے۔
اٹھارویں اور انیسویں صدی میں جہاں اور بہت سے میدانوں میں ترقی ہوئی وہیں انسانی حقوق کے حوالے سے بھی مختلف تحریکوں نے سر اٹھانا شروع کیا۔ اگرچہ بیسویں صدی تک کوئی واضح تصور پیش نہیں کیا جا سکا لیکن کسی حد تک پیش رفت ضرور ہوئی۔

لیکن اس تمام جدوجہد میں خواتین کا کہیں بھی ذکر نہیں کیا گیا۔ بالاخر خواتین خود اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لئے میدان عمل میں نکل آئیں۔
اس تحریک کا آغاز کب ہوا اس حوالے سے وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اس سلسلے کی باضابطہ کوشش 13جولائی 1848ءمیں ہوئی ۔1848ءکو نیو یارک میں سنیکا فالزSeneca Falls کے مقام پر خواتین کی طرف سے ایک کنونشن منعقد ہو اجس میں ایک” منشور جذبات“ Declaration of Sentiments پیش کیا گیا۔

اس تحریک کے آغاز کے اسباب وہ معاشرتی رویے تھے جن میں عورت کو نہایت پست اور ذیل مقام دیا جاتا تھا ۔ غیر اسلامی مذہبی نقطہ نظر میں عورت کو ”گناہ کی جڑ“ برائی کا شر چشمہ اور جہنم کا دروازہ سمجھا جاتا تھا۔ جس کی بہتریں مثال عیسائیت میں ملتی ہے۔
اس وقت کے سچے عیسائی سے یہی توقع کی جاتی تھی کہ وہ بغیر نکاح کئے زندگی گزار دے، اور راہب اور پادری کے لئے تو سرے سے شادی کو ناجائز قرار دیا گیا۔

اس کے علاوہ معاشی لحاظ سے عورت مکمل طور پر مرد کے زیر تسلط تھی اسے ذاتی ملکیت رکھنے کا کوئی اختیا ر نہ تھا۔ ان اسباب کے پیش نظر عورت اپنے حقوق کے حصول کے لئے میدان عمل میں نکل آئی۔

لیکن مغربی معاشرے کی عیار ذہنیت نے اس تحریک کو بھی اپنے مقاصد کے لئے پیش کیا اور اسے” شمع انجمن “بنا کر اس دھوکے میں ڈال دیا کہ اب وہ آزاد ہے ۔
ترقی کے اس دور میں مغرب نے ”حقوق نسواں “اور ”آزادیءنسواں“کے خوبصورت نعرے کی آڑ میں جو حقوق عورت کو عطا کئے ہیں وہ اس کے سواکچھ نہیں کہ  اسے عملی طور پر طوائف اور داشتہ کی سطح پر لے آیا ہے، آرٹ اور کلچر کے خوبصورت پردوں میں اس کا اس قدر استحصال کیا گیا کہ عورت عملا جنس کے متلاشیوں اور کاروباریوں کے ہاتھوں کھلونا اور مختلف کاروباری کمپنیوں کے پوسٹرز کی زینت بن کر رہ گئی ہے۔

گزشتہ چند سالوں میں وطن عزیز پاکستان میں بھی ”حقوق نسواں“ کے موضوع نے غیر معمولی اہمیت حاصل کر لی ہے۔ شاید ہی کو ئی تقریب یا مباحثہ ایسا ہو جس میں یہ موضوع زیر بحث نہ آتا ہو۔ چند روشن خیال ”مفکرین“ کا خیال تھا کہ پاکستان میں عورت کے استحصال کی بنیادی وجہ حدود آرڈینیس ہیں لہذا ان میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ اس سوچ نے ایک تحریک کی صورت اختیار کی اور بالآخر” تحفظ حقوق نسواں“ بل پیش ہو گیا ۔ خیال تھا کہ اب عورت تمام معاشرتی اور مذہبی قیدوں سے آزاد ہے لہذا اب وہ کسی قسم کے ظلم کا شکار نہیں ہو گی، معاشرے میں اس کو وہ مقام نصیب ہو گا جو تاریخ انسانی میں اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔
لیکن صرف 2008 میں عورت جس استحصال کا شکار رہی ہے اس کے چند واقعات انسان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔

گزشتہ حکومت نے اگرچہ اعدادو شمار کے سحر سے لوگوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے اور سادہ لوح خواتین کو ترقی کے مینار دکھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن۔ ع حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے۔

اور اب پیپلز پارٹی جو کہ پہلے روز سے ہی خواتین کو با اختیار کرنے اور انہیں حقوق عطا کرنے کے لئے ببانگ دہل دعوے، وعدے اور اعلانات کر رہی تھی صرف آٹھ ماہ سے بھی کم عرصے میں کئی ایسے درد ناک واقعات رونما ہو چکے ہیں کہ جمہوریت کے دعوے کا اصلی چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔
سونے پر سہاگا کہ بلوچستان میں پانچ نوجوان لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کے واقعے میں ملوث اور پھر اس روایتی اقدام کا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سینٹ میں دفاع کرنے والے سینٹر کو وزیر کا عہدہ عطا کر دیا گیا۔ لیکن کسی ایک کونے سے بھی اس کے خلاف آواز نہ اٹھ سکی۔

اگر ”حقوق نسواں “ کے چیمپیئن اسی انداز سے سرگرم عمل رہے اور نام نہاد مفکر اور دانشور انہیں اسی طرح فکری غذا بہم پہنچاتے رہے تو نہ جانے کتنی تسلیم سولنگی اور بلوچستان کی بے گناہ خواتین روایتوں کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی ۔

ابھی اس میدان میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ بطور خاص موجودہ حکومت ،جو کہ عوامی حکومت ہونے کی دعوے دار ہے، اگر ضروریات زندگی فراہم کرنا اس کے لئے ممکن نہیں لیکن انصاف اور حقوق ادا کرنے کے لئے تو میرے خیال میں کسی ”آئی ایم ایف“ سے قرضہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

تحریر:   اکرام الحق

تبیان

 

كليه حقوق اين سايت متعلق به انجمن علمی و پژوهشی فقه قضایی است و نقل مطالب بدون ذكر منبع غير مجاز مي باشد
مسؤولیت مقالات به عهده نویسنده بوده، درج مقاله به منزله تایید آن نیست
Template name : Alqaza / Template designed by www.muhammadi.org

SMZmuhammadi July 2010